تحریر: مولانا سید نجیب الحسن زیدی
حوزہ نیوز ایجنسی | آپ نے اکثر بڑی بڑی محفلوں اور کانفرنسوں میں اسٹیج پر سجے ہوئے عماموں اور ٹوپی شیروانی پہنے علماء حضرات کو دیکھا ہوگا
کبھی ان عماموں اور ٹوپیوں کے نیچے جھانک کر دیکھیے جنہیں قوم کے بعض صاحبان حیثیت اسٹیج پر گلدستوں کی طرح سجا کر پیش کر دیتے ہیں اور پھر انہیں کی کلپ وائرل کر کے سماج میں اپنا اعتبار بٹورتے ہیں **کاش یہ لوگ غور کرتے ٹوپیوں اور عماموں کے نیچے محض انکا اعتبار نہیں، زندہ احساس کے حامل انسان بھی ہیں؛ ایسے انسان جن کے سینوں میں درد، آنکھوں میں خواب اور گھروں میں ضروریات پلتی ہیں۔
ایک عالم کی زندگی اور اسکا درد
ایک ایسے عالم کی زندگی کا تصور کیجیے جس کی کہانی کسی اخبار میں شائع نہیں ہوتی، جس کے آنسو کسی کیمرے میں محفوظ نہیں ہوتے اور جس کی پریشانیاں کسی اسٹیج پر موضوعِ گفتگو نہیں بنتیں۔
صبح وہ درس دینے جاتا ہے، دوپہر کو کسی بیمار کی عیادت کرتا ہے، شام کو بچوں کو پڑھاتا ہے اور رات کو منبر پر بیٹھ کر لوگوں کو صبر، توکل اور قناعت کی تعلیم دیتا ہے اس بیچ کئی بار جیتا اور مرتا ہے کئی نظر نہ آنے والے مسائل کو حل کرتا ہے دن بھر کی تھکن اوڑھ کر سو جاتا ہے اور نئی ذمہ داریوں کے بوجھ تلے آنے والے کل کے لئے پھر سے آمادہ ہو کر گھر سے نکل پڑتا ہے ۔ہم اسے محفلوں اور مجلسوں میں لوگوں کے ساتھ خندہ پیشانی سے ملتے دیکھتے ہیں لیکن اسکی ہنسی کے پیچھے چھپے درد کو کبھی محسوس نہیں کر پاتے
محفل ختم ہوتی ہے تو کوئی اس کے ہاتھ میں لفافہ رکھ دیتا ہے، کوئی صرف دعا دیتا ہے، کوئی وعدہ کرکے چلا جاتا ہے اور کوئی اس کی خدمات کو اپنا حق سمجھتا ہے۔
وہ کسی سے شکوہ نہیں کرتا، کیونکہ اسے ڈر ہے کہ کہیں اس کے شکوے کو دین کی خدمت سے بے رغبتی نہ سمجھ لیا جائے۔
وہ کسی سے اپنے گھر کے حالات بیان نہیں کرتا، کیونکہ اسے خوف ہے کہ کہیں اس کی ضرورت کو اس کی کمزوری نہ بنا دیا جائے۔
وہ اپنے بچوں کے سامنے پریشان نہیں ہوتا، کیونکہ وہ چاہتا ہے کہ اس کے بچے اپنے باپ کو مضبوط دیکھیں۔
عالم کی خاموشی
کیا اس کی خاموشی کا مطلب یہ ہے کہ اسے کسی مدد کی ضرورت نہیں؟
کیا اس کی قناعت اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کے گھر کی تمام ضروریات پوری ہورہی ہیں؟
کیا اس کی خودداری قوم کو اس کی ذمہ داریوں سے آزاد کردیتی ہے؟
کبھی اس کے سر پر بچوں کے اسکول کی فیس کی تلوار لٹک رہی ہوتی ہے تو کبھی مکان کا کرایہ سر پر کھڑا ہوتا ہے، کبھی بجلی اور پانی کے بل اس کی محدود آمدنی سے بڑے دکھائی دیتے ہیں۔ کبھی گھر میں دوا کی ضرورت ہوتی ہے، کبھی بچوں کے کپڑوں کی اس پر شادی بیاہ کے مراسم بھی زندگی کا حصہ ہیں۔ رشتے داروں کی خوشی وغم میں شریک ہونا، بچوں کے مستقبل کی فکر بیٹی کی شادی کے لیے رقم جمع کرنا اور بیٹے کی تعلیم کے اخراجات پورے کرنایہ سب ذمہ داریاں اس عالم کے حصے میں بھی آتی ہیں۔
فرق صرف اتنا ہے کہ دوسرے لوگ اپنی پریشانیوں کا اظہار کرسکتے ہیں، مگر اس عالم سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ہر حال میں صابر، مطمئن اور بے نیاز دکھائی دے۔
جبکہ اس کے بچے بھی دوسروں کے بچوں کی طرح خواہشیں رکھتے ہیں۔ وہ بھی اچھی کتابیں، اچھے کپڑے اور بہتر تعلیم چاہتے ہیں۔ وہ بھی اپنے باپ سے کبھی کوئی ایسی چیز مانگ بیٹھتے ہیں جسے پورا کرنے کے لیے باپ کے پاس وسائل نہیں ہوتے۔
اس کے بچے نہیں جانتے کہ ان کے باپ نے اپنی جوانی کا کتنا حصہ درس و تدریس، مطالعے، تبلیغ اور لوگوں کی اصلاح میں گزار دیا ہے۔ انہیں کیا معلوم کہ اس نے کتنی مرتبہ اپنی ضرورت مؤخر کرکے کسی دوسرے کی پریشانی کو خود پر مقدم کیا ہے ۔
مخلص انسان اور عزت نفس
کسی مخلص انسان کا ہاتھ نہ پھیلانا اس بات کی دلیل نہیں کہ اس کے پاس سب کچھ ہے۔ بعض لوگ اپنی ضرورتیں اس لیے چھپاتے ہیں کہ انہیں اپنی عزتِ نفس عزیز ہوتی ہے۔
کچھ درد ایسے ہوتے ہیں جو زبان پر نہیں آتے، صرف انسان کے چہرے پر اتر آتے ہیں۔اور بعض اوقات یہی خودداری انسان کو معاشرے کی نظروں سے غائب کردیتی ہے۔
آپ علماء کی تقریریں سنتے ہیں، ان کے القابات پر پھول پھول جاتے ہیں ہم نے فلاں کو بلا لیا جنکی ڈائری ہمیشہ فل رہتی ہے ، آپ ان کے ناموں کے ساتھ "مولانا" "حجۃ الاسلام" جیسے الفاظ لکھ کر فخر کرتے ہیں، مگر کیا کبھی سوچا کہ ان کے گھروں میں زندگی کیسے گزرتی ہے؟
کیا ان کے بچوں کی اسکول فیس عمامہ دیکھ کر معاف ہوجاتی ہے؟ کیا مکان کا کرایہ، بجلی اور پانی کے بل ان کے تقدس سے مرعوب ہوجاتے ہیں؟ کیا ان کے بچوں کو دوسروں کی طرح خواب دیکھنے کا حق نہیں ؟ کیا ان کی بیٹیوں کی شادیاں، ان کے بیماروں کی دوائیں کسی آٹومیٹک نظام سے جڑی ہیں جو وقت آنے پر خودکار طور پر فعال ہو جاتا ہے اور سب کچھ حل ہو جاتا ہے ۔
سوچیں اور غور کریں
منبر پر صبر کا درس دینے والا عالم کتنی بار اپنے گھر میں بے بسی کا سبق پڑھتا ہے!
وہ اپنے بچے سے کہتا ہے: ’’بیٹا! فلاں ضرورت کا سامان اگلے مہینے لے دوں گا۔‘‘
بچہ باپ پر اعتماد کرکے چلا جاتا ہے، مگر باپ راتوں کو کروٹیں بدلتا ہے۔ اسے بچے کی خواہش سے زیادہ اپنی بے بسی کا دکھ سونے نہیں دیتا۔
اور کبھی یہی بچہ معصومیت سے اگر پوچھ بیٹھتا ہے:
’’ابا! جو لوگ آپ کی اتنی عزت کرتے ہیں، وہ آپ کی ضرورت کے وقت کہاں ہوتے ہیں؟‘‘ تو ایک عالم کے سینے میں امڑ آنے والے درد کو کون پڑھ سکتا ہے؟۔۔
یہ سوال یہ ایک باپ کے سینے میں اترتا ہے اور اس کی خودداری کو لہولہان کرکے اپنی جگہ دوسرے رخ سے پھر سامنے آجاتا ہے۔
مگر بے حس معاشرے کو کیا خبر! اسے تو اگلی مجلس کے لیے خطیب چاہیے، اسٹیج کے لیے عمامے، استقبال کے لیے گلدستے اور اشتہار کے لیے بڑے بڑے القابات درکار ہیں۔
محفل ختم ہوتی ہے، گلدستے مرجھا جاتے ہیں، تصویریں سوشل میڈیا پر چلی جاتی ہیں اور تعریفوں کا شور خاموش ہوجاتا ہے۔
عمامے اور ٹوپی شیروانیاں اپنے گھروں کو لوٹ جاتے ہیں، وہ گھر جہاں کسی کا کرایہ باقی ہے، کسی کے بچے کی فیس واجب الادا ہے، کسی کے گھر میں دوا کی ضرورت ہے اور کوئی اپنی بیٹی کی شادی کے اخراجات کا حساب لگاتے ہوئے خاموش بیٹھا کسی بڑے تاجر کے ناز و نخرے بھرے چودہ چودہ استخارے دیکھ رہا ہے کہ انکو ناراض کیا تو کبھی کبھار جو اعانت ہوتی ہے اس سے بھی ہاتھ دھونا پڑے گا۔
گلدستوں کے مرجھانے پر کسی کو حیرت نہیں ہوتی، مگر ان عماموں کے اندر پلنے والی امیدیں مرجھا جائیں اور انہیں بھی گلدستوں کے ڈھیر میں دبا دیا جائے تو یہ افسوس کا مقام۔
تم کہاں تھے
ایک دن قدرت ہم سے پوچھے گی
جب علم کے چراغ روشن رکھنے والے اپنے گھروں میں اندھیروں سے لڑ رہے تھے، تم کہاں تھے؟
جب ایک عالم اپنے بچے کی فیس کے لیے پریشان تھا، جب اس کی بیٹی کی شادی اس کے لیے ایک بڑا امتحان بنی ہوئی تھی، جب مکان کا کرایہ باقی تھا اور بجلی کا بل اس کی محدود آمدنی کا امتحان لے رہا تھا، تم کہاں تھے؟
جب مخلص اہلِ علم کو حاشیے پر دھکیلا جارہا تھا اور خوشامدیوں کو منصب دیے جارہے تھے، تم کہاں تھے؟جب اہلِ علم کو شہرت پرستی کی لحد میں زندہ زندہ درگور کیا جارہا تھا اور چاپلوسوں اور مکھن بازوں کو اداروں کی کنجیاں دی جارہی تھیں، تب تم کہاں تھے؟
جب القابات کی چمک علم کی گہرائی پر غالب آرہی تھی، جب تعلقات اہلیت کو نگل رہے تھے، جب اہلِ بیتؑ کی ولایت کے مقدس نام پر بعض لوگ عوام کے جذبات سے کھیل رہے تھے، تب تم نے حق کے لیے کتنی آوازیں بلند کیں؟
شاید قوم کے بعض باحیثیت جواب دیں ہم مصروف تھے ناموں کے پیچھے بھاگ رہے تھے ۔کہیں چلتی کاروں اور گاڑیوں کے قافلے کی نمایشگاہ سجا رہے تھے کہیں کسی نا اہل کو "اہل"ثابت کرنے کئے ایڑی چوٹی کا زور لگائے تھے ۔
سبھی مصروف تھے کوئی دولت بڑھانے میں، کوئی عہدہ بچانے میں، کوئی اپنی شخصیت کے گرد حصار بنانے میں، کوئی محفلوں کی تصویریں کھینچنے میں اور کوئی اپنے پسندیدہ خطیب کے لیے تالیاں بجانے میں۔
تب ہمارے پاس اس بات کا جواب نہ ہوگا کہ تم کیسے انسان تھے کہ
تمہیں اسٹیج کی سجاوٹ یاد رہی، مگر اسٹیج پر بیٹھنے والوں کے گھروں کی ویرانی یاد نہ رہی۔
تمہیں ان کے نام کے ساتھ بڑا لقب لکھنا یاد رہا، مگر ان کے بچوں کی تعلیم کا خیال نہ آیا۔
تمہیں ان کی تقریروں پر واہ واہ کہنا یاد رہا، مگر ان کی خاموشی میں چھپا ہوا کرب سنائی نہ دیا۔
تم نے عالم کی آواز سے فائدہ اٹھایا، مگر اس کی بے آواز فریاد سننے کی زحمت نہیں کی!
اپنے سرمایہ کو بچاو
ا بھی وقت ہے۔ اپنے منبر بچالو، مگر صرف لکڑیوں کے تختے نہیں وہ منبر بھی جہاں حق بولا جاتا ہے۔اپنے مدارس بچاو، مگر صرف ان کی دیواریں نہیں؛ ان کے اندر پلنے والے علمی خواب بھی۔
علماء کی عزت کرو، مگر صرف ان کے القابات کی نہیں؛ ان کی انسانیت، ان کی محنت، ان کے اہل و عیال اور ان کے جائز حقوق کی بھی عزت کرو۔
جو غلطی کرے، اس کا احتساب کرو؛ جو نااہل ہو، اسے منصب سے ہٹاؤ؛ جو مقدس ناموں کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کرے، اس سے سوال کرو۔ لیکن جو اخلاص سے علم کی خدمت کررہا ہے، اسے معاشی بے بسی اور سماجی بے حسی کے حوالے مت کرو۔
کیونکہ ہر عمامہ تقدیس کا سرٹیفکیٹ نہیں، مگر ہر عمامے کے نیچے ایک انسان ضرور ہے۔
اور ہر انسان کو عزت کے ساتھ جینے کا حق بھی حاصل ہے۔
قوم کا سرمایہ صرف اس کی دولت، عمارتیں اور بڑے بڑے ادارے نہیں ہوتے۔ اس کا اصل سرمایہ وہ مخلص انسان ہوتے ہیں جو اپنی زندگی کی روشنی دوسروں میں تقسیم کرتے ہیں۔
اگر تم نے ان روشنی بانٹنے والوں کو ہی اندھیروں کے حوالے کردیا تو کل تمہارے پاس دولت ہوگی، اسٹیج ہوں گے، گلدستے ہوں گے، القابات ہوں گے، مگر شاید وہ لوگ نہیں ہوں گے جو تمہیں روشنی کا راستہ دکھا سکیں۔
شاید تمہیں اس وقت احساس ہوگا جب وہ منبر خالی رہ جائیں گے جہاں سے کسی کے ایجنڈے کو آگے نہ بڑھاتے ہوئے ایک عالم چو طرفہ مخالفتوں کے باوجود اہلبیت ع کے مشن کو آگے بڑھا رہا تھا جب وہ درس گاہ خاموش ہوجائے گی جہاں درد مند اساتذہ بچوں کی تربیت اپنے کئے گئے خدا سے عہد کے مطابق کر رہے تھے اور مخلص ہونے کا خراج نا اہل مدیروں کے عتاب کی صورت دے رہے تھے جب وہ مخلص انسان اپنی توانائیاں کھو بیٹھے گا جو حق کے لئیے لڑ رہا تھا اور جب علم و اخلاص کی جگہ تعلقات، خودنمائی اور مفاد پرستی لے لیں گے۔
قوموں کا زوال
یاد رکھیں قومیں صرف اس لیے زوال پذیر نہیں ہوتیں کہ ان کے پاس وسائل کم ہوتے ہیں؛ بعض قومیں اس لیے بھی زوال پذیر ہوتی ہیں کہ ان کے پاس وسائل تو ہوتے ہیں، مگر انہیں خرچ کرنے کا شعور نہیں ہوتا۔
ان کے پاس علماء ہوتے ہیں، مگر علم کی قدر نہیں ہوتی۔ ان کے پاس منبر ہوتے ہیں، مگر منبر کی ذمہ داری کا احساس نہیں ہوتا۔ ان کے پاس محبت کے نعرے ہوتے ہیں، مگر محبت کے تقاضے پورے کرنے کا حوصلہ نہیں ہوتا۔
اور پھر ایک دن منبر تو باقی رہ جاتا ہے، مگر منبر کی روح رخصت ہوجاتی ہے۔
اسٹیج آباد رہتا ہے لیکن قوم کا وقار پامال ہو جاتا ہے۔
اگر تم نے علم کی روشنی بانٹنے والوں کو ہی اندھیروں کے حوالے کردیا تو کل تمہارے پاس دولت ہوگی، عمارتیں ہوں گی، اسٹیج ہوں گے، گلدستے ہوں گے، القابات ہوں گے، لیکن شاید وہ لوگ نہیں ہوں گے جو تمہیں روشنی کا راستہ دکھا سکیں۔
اور اس دن تمہیں معلوم ہوگا کہ گلدستوں کی حفاظت کرتے کرتے تم نے باغ کے مالی کو بھلا دیا تھا!
ہم ہرگز یہاں قوم سے ہمدردی کی بھیک نہیں مانگ رہے؛ بلکہ ایک حقیقت سے آشنا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں معاشرے کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کی اپنی بساط بھر ایک کوشش جو منبر سے فیض تو چاہتا ہے، مگر منبر کے وارثوں کے درد سے بے خبر رہتا ہے۔
کیونکہ جس قوم کو اپنے چراغوں کے بجھنے کا احساس ان کے بجھ جانے کے بعد ہو، اسے اندھیروں کا شکوہ کرنے کا حق نہیں رہتا!
جس قوم کو اپنے چراغوں کے بجھنے کا احساس ان کے بجھ جانے کے بعد ہو، اسے اندھیروں کا شکوہ کرنے سے پہلے اپنے گریبان میں ضرور جھانکنا چاہیے۔
منبر سے اترنے والے عالم کو صرف دعا نہیں، کبھی سہارا بھی چاہیے؛ صرف لقب نہیں، کبھی ذہنی سکون بھی چاہیئے ؛ کبھی صرف واہ واہ نہیں ، یہ احساس بھی چاہیے کہ اس کی قوم اسے تنہا نہیں چھوڑے گی
اسٹیج اور منبر کے مسخروں کے ناز و نخرے انکے شاہانہ لباس انکے ہاتھوں میں یاقوت کی تسبیح دیکھ کر ہرگز گمان نہ ہو کہ سب چنگا سی سب مزے میں ہیں للہ بے حسی کی چادر ہٹائیں جواب غفلت سے جاگیں اور اپنے اطراف میں دیکھیں قوم کی بے حسی کی اونچی اٹھی ہوئی دیواروں میں کون سسک سسک کے رو رہا ہے اسکی سسکیوں میں ہمارا کتنا حصہ ہے۔۔۔۔










آپ کا تبصرہ